اسکول کھل گئے، مگر STIs کا مستقبل اب بھی انتظار میں
چوبیس اگست کو پنجاب بھر کے سرکاری اسکول دوبارہ کھل گئے۔ کلاس رومز میں بچوں کی واپسی ہوئی، اساتذہ اپنے فرائض پر پہنچے اور نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوگیا۔
لیکن ہزاروں School Teacher Interns (STIs) کے لیے یہ نیا تعلیمی سال ایک خوشی کے بجائے ایک نئے سوال کے ساتھ شروع ہوا:
"ہم دوبارہ کب اسکول جائیں گے، اور ہماری اگلی تنخواہ کب آئے گی؟"
STIs پہلے ہی کئی ماہ سے مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ گزشتہ کنٹریکٹس ختم ہوچکے ہیں، موسم گرما کی تین ماہ کی چھٹیوں کے دوران انہیں تنخواہ یا الاؤنس نہیں ملا، اور اب نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کے باوجود ری نیول یا ایکسٹینشن کا معاملہ حتمی نوٹیفکیشن کا منتظر ہے۔
وزیر تعلیم کے وائس نوٹ کے بعد نئی تشویش
STIs کے درمیان اس وقت سب سے زیادہ زیرِ بحث وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا وائس نوٹ ہے۔
وائس نوٹ میں بتایا گیا کہ STIs اور CTIs کے کنٹریکٹس میں توسیع کا معاملہ کابینہ کی منظوری سے مشروط ہے۔ جسے مزید 15 سے 20 لگ سکتے ہیں اس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کی حتمی منظوری کے مراحل مکمل ہونا باقی ہیں۔
یہ بات سن کر انٹرنز کو ایک طرف امید ہوئی کہ معاملہ ختم نہیں ہوا، لیکن دوسری طرف انتظار مزید طویل ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا۔
اگر فیصلہ کابینہ اور مزید سرکاری مراحل کے بعد ہونا ہے تو STIs کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے:
"جب اسکول 24 اگست سے کھل چکے ہیں تو ہمارے بارے میں فیصلہ ابھی تک کیوں نہیں ہوا؟"
تین ماہ کی چھٹیوں کی تنخواہ نہیں ملی، اب مزید ایک ماہ کا انتظار؟
ایک STI کے لیے سب سے بڑا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کنٹریکٹ کب بحال ہوگا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ تین ماہ کی موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران بھی کوئی تنخواہ نہیں ملی۔
بہت سے نوجوان پہلے ہی محدود آمدنی پر اپنے گھر کے اخراجات چلا رہے تھے۔ جب تین ماہ کی آمدنی رک گئی تو مالی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔
اب اگر ری جوائننگ اور ایکسٹینشن میں مزید تقریباً ایک ماہ کی تاخیر ہوتی ہے تو انٹرنز کو خدشہ ہے کہ گزشتہ بار کی طرح اس سال بھی پورے بارہ ماہ میں صرف تقریباً آٹھ ماہ کی تنخواہ ہی ملے گی، جبکہ باقی چار ماہ بغیر تنخواہ کے گزر جائیں گے۔
یہی بات آج STIs کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔
ایک ماہ کی تاخیر صرف ایک تاریخ نہیں
کاغذ پر ایک ماہ کی تاخیر شاید ایک معمولی انتظامی مسئلہ محسوس ہو۔
لیکن جس نوجوان کا گھر اس کی ماہانہ آمدنی پر چلتا ہو، اس کے لیے ایک ماہ کا انتظار بہت بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔
اسے سفر کے اخراجات ادا کرنے ہیں، گھر کے اخراجات میں حصہ ڈالنا ہے، اپنی ضروریات پوری کرنی ہیں اور مستقبل کے لیے بھی کچھ سوچنا ہے۔
جب تین ماہ پہلے ہی بغیر تنخواہ گزر چکے ہوں تو مزید ایک ماہ کا انتظار مالی دباؤ کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
25 ہزار STIs کے لیے امید کی نئی کرن
STIs کے لیے ایک مثبت پیش رفت یہ ہے کہ حالیہ رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت تقریباً 25 ہزار STIs کے کنٹریکٹس میں توسیع کرنے پر غور کر رہی ہے۔
28 اگست کی رپورٹ کے مطابق محکمۂ تعلیم کی جانب سے کنٹریکٹ ایکسٹینشن کی سمری وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری کے لیے بھیجی جا چکی ہے۔
اس خبر نے ہزاروں انٹرنز کے اندر دوبارہ امید پیدا کی ہے، لیکن حتمی سرکاری منظوری اور باقاعدہ نوٹیفکیشن کا انتظار اب بھی باقی ہے۔
یعنی امید موجود ہے، مگر جب تک نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا، ایک STI کے لیے یہ امید مکمل یقین میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔
STIs کا مطالبہ
انٹرنز چاہتے ہیں کہ حکومت اس معاملے کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے اور انہیں واضح طور پر بتایا جائے کہ وہ کب دوبارہ اسکول جوائن کریں گے۔
اگر حکومت واقعی ان کے کنٹریکٹس میں توسیع کرنا چاہتی ہے تو پھر فیصلہ جلد مکمل کیا جانا چاہیے تاکہ نوجوان اساتذہ کی پریشانی ختم ہو اور اسکولوں میں تدریسی نظام بھی متاثر نہ ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ انٹرنز کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ انہیں گزشتہ سال کی طرح سال کے صرف چند ماہ کی تنخواہ تک محدود نہ رکھا جائے۔
آخر میں ایک سادہ سا سوال
ایک STI نے پورا تعلیمی سیشن بچوں کو پڑھایا۔
اس نے روزانہ اسکول کا سفر کیا، کلاس روم میں وقت دیا اور اپنی ذمہ داری پوری کی۔
اب جب اسکول دوبارہ کھل چکے ہیں تو وہ صرف ایک واضح جواب چاہتا ہے:
"کیا ہمیں دوبارہ پڑھانے کے لیے بلایا جائے گا؟"
اور اگر جواب ہاں ہے تو پھر دوسرا سوال بھی اتنا ہی اہم ہے:
"اس فیصلے میں مزید کتنا وقت لگے گا؟"
تین ماہ کی موسم گرما کی چھٹیوں کی تنخواہ پہلے ہی نہیں ملی۔ اگر اب مزید ایک ماہ کی تاخیر ہوتی ہے تو STIs کے لیے یہ صرف ایک انتظامی تاخیر نہیں ہوگی بلکہ ان کے گھریلو بجٹ اور مالی مستقبل پر براہِ راست اثر پڑے گا۔
ہزاروں نوجوان اس وقت کسی افواہ یا وعدے کے بجائے واضح نوٹیفکیشن، بروقت ری جوائننگ اور منصفانہ ادائیگی کے منتظر ہیں۔

0 Comments